|
سریہ موتہ جمادی
الاول آٹھ ہجری چھ سو تیس عیسوی میں ہوا۔ |
201 |
|
موتہ تلواروں کی
صنعت کا مرکز تھا اور شام کا ایک علاقہ تھا۔ یہاں عیسائی حکمرانی تھی۔ |
202 |
|
سریہ موتہ کی
وجہ حاکم بصری شرجیل کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حارث بن عمیر کو قتل
کروانا تھا۔ |
203 |
|
سریہ موتہ میں
مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہوا۔ |
204 |
|
مسلمان لشکر کی
تعداد تین ہزار تھی۔ |
205 |
|
عیسائی لشکر کی
تعداد ایک لاکھ تھی۔ |
206 |
|
سریہ موتہ میں
صرف بارہ مسلمان شہید ہوئے۔ |
207 |
|
سریہ موتہ میں
حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ بن ولید کے ہاتھ سے آٹھ تلواریں ٹوٹیں۔ |
208 |
|
اسی موقع پر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ بن ولید کو سیف اللہ کا لقب
دیا۔ |
209 |
|
سریہ موتہ جزیرہ
عرب سے باہر لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی۔ |
210 |
|
فتح مکہ رمضان
کے مہینے میں 8 ہجری کو چھ سو تیس عیسوی میں ہوئی۔ |
211 |
|
فتح مکہ کے موقع
پر اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار تھی۔ |
212 |
|
قریش مکہ کو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع نہیں تھی۔ |
213 |
|
فتح مکہ کے موقع
پر ابوسفیان حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاس گئے اور اسلام قبول کر لیا۔ |
214 |
|
فتح مکہ کے موقع
پر حضرت خالد بن ولید کے لشکر پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا اس میں تین مسلمان شہید
ہوئے جب کہ تیرا کافر مارے گئے۔ |
215 |
|
حضرت بلال رضی
اللہ تعالی عنہ نے خانہ کعبہ میں سب سے پہلے اذان دی۔ |
216 |
|
فتح مکہ کے بعد
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ کے نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کے
لئے مقرر کیا گیا۔ |
217 |
|
فتح مکہ کے بعد
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں پندرہ دن تک قیام فرمایا۔ |
218 |
|
مکہ میں پندرہ
روز گزارنے کے بعد ایک نوجوان عتاب رضی اللہ تعالی عنہ بن اسید کو گورنر مقرر کر
کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے۔ |
219 |
|
غزوہ حنین شوال
کے مہینے میں 8 ہجری کو فروری 630 عیسوی میں پیش آیا۔ |
220 |
No comments:
Post a Comment